دعوت اجل

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - موت کا بلاوا۔ "پچھلے سال دو مشہور ہندوستانی اہلِ قلم نے دعوتِ اجل کو لبیک کہا۔"      ( ١٨٦٩ء، خطبات گارستاں تاسی، ٨١١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'دعوت' کے بعد کسرۂ اضافت لگا کر عربی زبان سے مشتق اسم 'اجل' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٦٩ء سے خطبات "گارستاں تاسی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - موت کا بلاوا۔ "پچھلے سال دو مشہور ہندوستانی اہلِ قلم نے دعوتِ اجل کو لبیک کہا۔"      ( ١٨٦٩ء، خطبات گارستاں تاسی، ٨١١ )

جنس: مؤنث